جہنم کا دروازہ، سرخ کیکڑے،انہتائی خطرناک جھیل اور بہت کچھ

جی یہ سب آپکے آس پاس ہورہا ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتاہے۔

24470c4a70076324c53179259bc5a6e8

(سرخ کیکڑوں کی ہجرت)

۔ کرسٹماس آئیرلینڈ، آسڑیلیا وہ جگہ جہاں ایسے کیکڑوں کی ہجرت دیکھی جاسکتی ہے۔ اکتوبراور نومبرکے اوائل میں یہ مخلوق جنگل سے سمندر کارخ کرتی تاکہ وہاں انڈے دے کر نئ نسل کی پیداوار ہوسکے۔

503e5f5dbf278fb12f70e1cf1eb093b3

(ریٹبا جھیل)

۔ یہ جھیل سینگال میں واقع ہے اس کارنگ سرخ ہوچکا ہےکیونکہ اسمیں پائی جانے والی الجائی سورج کی روشنی کوجذب کرلیتی ہے۔

1cb8c7d30c1349eb600c517559efd611(ہیپی ویلی کا درخت)۔

  یہ درخت ہیپی ویلی(ہانگ کانگ) میں قائم شدہ گھوڑوں کے استبل میں واقع ہےاسکی خاص بات یہ ہے کہ یہ فرش پر اینٹوں کی طرح اپنی جڑیں پھیلا رہاہے۔

fce62feca6b5e0f120b91f429d21ceec

(موریکی بولڈرز )

۔ یہ ایک خاص قسم کاپتھر ہوتاہے جو کہ بلکل گول ہوتاہے نیوزی لینڈ میں یہ پتھر کچھ ایسی شکل میں ہے کہ اس کاسائز بہت بڑاہے اور اسقدر بڑے بولڈر پتھر دنیا میں اور کہیں نہیں ملتے۔

0d3ad637c6034ce9116900519fbf08d4

(سپوٹڈ لیک)

۔ یہ جھیل کینیڈا میں ہے اور ایسے وجود کی بنیادی وجہ عمل تبخیر اوربہت ساری معدنیات کامجموعہ ہوناہے۔

9c0df869b189e0e409f5438091d35439

(ویٹوموکی جگنوؤں سے بھرپور غاریں)

۔ نیوزی لینڈ کی ان غاروں میں جگنو اسقدر کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں کہ آپکو وہاں سفر کیلیے کسی قسم  کی روشنی درکار نہیں ہوتی۔ ایسی غاریں صرف نیوزی لینڈ میں ملتی ہیں۔

678272513f7d60c65bbd2477bb0db2d0(چمکدارسمندری لہریں)

۔ یہ حیرت انگیز منظرسان ڈیاگو،تائیوان اور بیشترمقامات پردیکھنےکو ملتاہے۔ یہ ایک خاص سمندری نباتات فائیٹوپلانکٹن کے دھل کر ساحل سمندر پر آن پہنچنے کیوجہ سے ہوتاہے۔

ebbbaff28c548d76fc6958be9e862f72

(نیٹرون جھیل)

۔ یہ ایک بہت بڑی مگر نمکین پانی کی جھیل ہے جوکہ شمالی تنزانیہ میں واقع ہے دراصل اس جھیل کا پی ایچ لیول بہت زیادہ ہے یہ غیر مقامی لوگوں کی جلد اور آنکھیں دونوں جلاسکتی ہے۔

bde9460ec77d7c54b45cafceedd5c94f

(رین بویوکیلیپٹس)

۔ یوکیلیپٹس کی یہ قسم شمالی کرہ ارض میں پائی جاتی ہے۔ یہ قدرتی طور پر چوڑائی میں چھ فٹ سے دوسوفٹ تک چوڑے ہوتے ہیں اور کاغذ بنانے کےکام آتے ہیں۔

c7b244ba00144c8d79e1b6ea86648d5e

(جہنم کادروازہ)

۔ یہ “جہنم کا دروازہ” قدرتی گیس کا ایک بہت بڑاذخیرہ ہے جوکہ درویز،ترکمانستان میں واقع ہے۔ اور سن انیس سو اکہترمیں سوویت پٹرولیم انجینیرز نے اسے دریافت کیاتھا۔ اسکے اردگرد سلفر کی بدبو بھی سونگھی گئی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s