آگر آپ کامیابی چاہتےہیں تودس کاموں سے دور رہیں

 

Apple Announces Launch Of New Tablet Computer
SAN FRANCISCO – JANUARY 27: Apple Inc. CEO Steve Jobs

ہر ایک انسان کیلیے کامیابی کامطلب مختلف ہے۔ جیسا کہ خوبصورتی انسانی آنکھ میں پائی جاتی ہے۔  آپکی ذمہ داری ہےیہ جاننا کہ کامیابی آپکے لیے کیا معنی رکھتی ہے، اور کیسے آپ ایک ایسی کامیابی حاصل کرسکتے جو آپکی پوری نسل میں انقلاب لے آئے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کامیابی حاصل کرنےکیلیے بہت سی مشکلات برداشت کرناپڑتی ہیں۔ آگرکامیابی کی معمولی سی کرن آپکو دکھائی دے تو خودکوروکیے مت اور وہ کردکھائیے جوآپکومنزل تک لےجائے کیونکہ آپ یہ کر دکھانے کی ہمت رکھتے ہیں۔

ایک۔ بہانے بنانا: آگر آپ کچھ حاصل نہیں کرسکے تو دوسروں کو قصوروار مت ٹھہرائیے۔ اپنی غلطیوں سے انکار کرنا بندکیجئیے۔ آپ خود اپناراستہ منتحب کرتے ہیں اور خودہی غلطیاں بھی کرتےہیں۔عمومی طور پر،اپنی کوتاہیوں کےبارے میں جواز پیش کرنا اور مقاصد میں پیچھے رہ جانے پر خود کو بچانے کیلیے کہانیاں گڑھنابند کریں۔ کامیاب لوگ ایسے نہیں کیا کرتے۔

آپکےلیے یہ وبال جان بنکر ناکامی کی وجہ بن سکتاہے۔ اسلیے ایسےافعال سے دور رہ کر اپنی ناکامیوں کے مضمرات سے جان چھڑا سکتے ہیں اور آئندہ کیلیے ایسی مسٹیکس سے خودکو بچاسکتے ہیں۔ لہذا بہانے تلاش کرنا بندکیجئیے۔

دو۔ منفی پہلوسے جڑے رہنا: یقینا انسان کی زندگی میں بہت سے منفی پہلو ہوتےہیں جن پرانسان قابو نہیں پاسکتا۔ دوسری جانب بہت سے مثبت مشاہدات بھی زندگی کاحصہ ہواکرتے ہیں۔ اورمیں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ آپکی زندگی میں مثبت پہلو بہ نسبت منفی کے زیادہ ہوں گے۔ آپ مثبت نقطء نظر سے زندگی گزار سکتے ہیں۔ آگر آپ کامیاب زندگی گزارناچاہتے ہیں تو پوزیثو سوچ کو اپنائیں۔ آپ نیگیثیو حصوں کو نظرانداز تو نہیں کرسکتے مگر اپنی ساری توجہ ان پرمرکوز کرنا بھی کوئی دانائی نہیں۔ ایسی صورت میں آپ کبھی بھی مطمئن زندگی نہیں گزار سکتے کیونکہ آپ ہر اچھے پل کو بھولا کر حادثات کو یاد رکھتے ہیں۔ حتی کہ آپ زندگی میں سب کچھ حاصل کرکے بھی غیر دانستہ طور پر اپنی خوشیوں کے قاتل بن جاتےہیں۔ ایسے لوگ بناوٹی طورطریقے اپنا کر اپنی زندگی کامیاب بنانےکے عادی ہوجاتےہیں مگر درحقیقت وہ کبھی خوش وخرم زندگی نہیں گزار سکتے۔

تین۔ ناکامی کا خوف: جیسا کہ پہلے ہی ذکر ہوچکا ہے، کہ اپنی ناکامی سے ڈریں مت۔ بلکہ اسکے بجائے اپنی غلطی تسلیم کریں اور ان سے سیکھیں۔

جب آپ کامیابی حاصل کرتے ہیں تو آپکو پتاہوتا ہے کہ یہ سب آپکی محنت اور کاوش کا نتیجہ ہے۔ جب آپ ناکامی کا شکار ہوتےہیں تو اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ ایک ناکام شحص ہیں شاید یہ آپ اکیلے نہیں جو اسطرح کےحالات کا سامنا کررہے ہیں۔ اپنی ناکامیوں کو کامیابی کیلیے ایک موقع بنائیں اور ان سے ڈریں مت۔

چار۔ آسان راستوں کی تلاش: کامیابی حاصل کرنا اسوقت ناممکن ہوجاتا ہے جب آپ مشقت اور محنت سے فرار کے راستے تلاش کرتےہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ باکمال لوگ کبھی آسان راستوں کے پیچھے نہیں بھاگا کرتے۔

زندگی محض کسی بحری جہاز کو کنٹرول کرنے کانام نہیں ہے جو کہ آپکو کامیابی کی راہوں پر گامزن کرسکے۔ بلکہ خود کو چیلینج کرنا پڑتاہے۔ خود کودھکیلیں اور اپنی خدود کو وسعت دیں۔ اپنی کوششوں کا بہترین پوٹینشل مقاصد کو حاصل کرنے میں صرف کردیں۔ یہ بذات خود ایک کامیابی ہے۔

پانچ۔ میں کو ختم کرنا: آپ کبھی بھی خودکو جسمانی طور پرشکست نہیں دے سکتے ہاں آپ اپنی جذباتی کیفیت اور سوچ کو خود پر ہاوی نہ ہونے دیجئیے۔ حالات مخالف کے دوران اپنی ذہنی حالت پر قابو پانے کافن کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنے کیلیے انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔

حالات دیکھ کراداس ہوجانا، اپنے جذبات کی مناسب انداز میں لب کشائی کرنا۔ وقت بے وقت ناخوش رہنا اور یہ سوچتے رہنا کہ اوہ!یہ ہونے والاہے۔ ان سب سے نجات کا راستہ یہ ہے کہ آپ تمام منفی بابوں پر غوروفکر اور ایک ہی جگہ رکے رہنا بند کریں۔ آگر آپ ضرورت سے زائد وقت اور توجہ ان معاملات پر صرف کریں گے تو اپنے مقصد سے ہٹ کر غلط راہ پر چل پڑیںگے۔

چھ۔ ناشکراہونا: اطمینان سے بھرپور زندگی گزارنے کیلیے ضروری ہے کہ آپکےپاس جو کچھ بھی ہے اس پر شکر ادا کریں۔ اور آگر آپ ناشکرے ہوئے تو آپکی زندگی سے ہر خوشی، نعمت اوراچھائی دور ہوجائے گی۔ شکرگزاری نہ صرف اطمینان بخشتی ہے بلکہ کامیابی کا سبب بھی بنتی ہے۔ آگر آپ اس سب پر خوش ہیں جوآپکو زندگی میں ملا ہے تو پھر آپ زندگی کی پیچیدگیوں سے خود کو بچا کر باآسانی کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

میرا ٹارگٹ صرف روپیہ پیسہ نہیں ہے بلکہ میری مراد ذندگی کا ہر لمحہ ہے۔اور نہ ہی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر امیر شخص شکرگزار ہوتاہے اسی لیے کامیاب بھی، اور دوسری جانب ہر غریب ناشکراہوتا اسی لیے ناکام بھی۔

ناشکرے لوگ زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اور آگر کامیاب بننے کی خواھش ہوتو ایسے لمحات تلاش کیجئیے جن پر آپکو شکرگزار ہوناچاہیے۔ آپکی شکرگزاری زندگی کوآسان کردےگی۔ یہ آپکو راہ دکھلائے گی جس پر چلتے ہوئے آپ کامیابیاں حاصل کرسکیں گے۔

سات۔ صرف اور صرف اپنی ضرورتوں پر توجہ دینا: یقینا یہ سب کچھ آپ کہے بغیر بھی کررہے ہونگے۔ مگر صرف اپنی ذات تک محدود رہنا یعنی خودغرض بن جانا بھی سراسر غلط ہے۔ آگر آپ پورے کرہ عرض پرامیر ترین شخص ہیں اور کسی ضرورت مند کی مدد نہیں کرتے تو آپ ایک ناکام انسان ہیں۔  قوی امکانات ہیں کہ زندگی میں ناخوش ہونگے۔ دوسروں کی مدد کرنا کامیابی کاسب سے بہترین راستہ ہے۔

آٹھ۔ راستے سے بھٹک جانا: آپ اپنی کتاب لکھنے والے تھے لیکن، آپ اپنے خوابوں جیسا بزنس لانچ کرنے والے تھے لیکن، آپ پوری دنیا گھومنا چاہتے تھے لیکن ایسا ہونہ سکا ۔ کیونکہ زندگی کے ہاتھوں آپ مجبور تھے۔ مگر ایسے حالات کے نرغے میں اپنے مقاصد سے دور ہوجانا کہاں کی دانشمندی ہے۔ جب آپ اسطرح کے بہکاووں کو اپنی زندگی میں راستہ دیتے ہیں تو آپ اپنے مقصد سے بہت دور ہوجاتے ہیں جو بعد میں آپکی ناکامی کاسبب بننے لگتے ہیں۔

ایسا آپکی زندگی میں ہرروز ہوا کرتاہے۔ آپ فیس بک یاپھر کسی بھی سوشل میڈیا پے لوگ ان ہوتے اور نہ جانےکتنا وقت وہاں ضائع کرکے اپنا کام ادھورا چھوڑ کر سوجاتےہیں۔ ایسا مت کریں اور کسی سرگرمی کو اپنے اور منزل کے مابین حائل نہ ھونے دیں۔ اور آجکا کام کبھی بھی کل پر مت چھوڑیں۔

نو۔ بے مقصد زندگی :یہ آپکی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنی منزلوں کاتعین کریں۔ کامیاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کاہر دن بامقصد گزاریں۔ آپکی زندگی کا مقصد چاہے کتنا بڑاہو اور پوری دنیا سے بھوک مٹاناچاہتےہوں۔ پوائنٹ یہ ہے کہ آپ اپنے مقصدکیلیے ہر ممکن کوشش کریں۔ پوری زندگی کسی مقصد کے بغیر گزارنا اور اپنے معاشرے میں کوئی مثبت کردار نہ ادا کرسکنا بھی ناکامی ہے۔

دس۔ ہمت ہار جانا: آگر آپکی زندگی میں غیر متوقع رکاوٹ آجائے تو آپ کیسے ہینڈل کریں گے۔ آپ ہمت ہار جائیں گے یا پھر اپنی کوشش جاری رکھیں گے؟ کامیاب لوگ کبھی ہمت نہیں ہارتے۔ وہ اپنی منزل تک پہنچنے کاتہیہ کرلیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ کبھی وہاں تک نہ پہنچ سکیں مگر وہ درپیش رکاوٹوں کو کبھی راستے میں حائل نہیں ہونے دیتے۔ یعنی وہ مایوس ہونے کی بجائے کوشش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

کامیابی زندگی کے بہت سے میدانوں کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہوتی ہے۔ آپکی معاشی کامیابی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوگا کہ آپ زندگی کے ہرمیدان میں کامیاب ہوجائیں گے۔ جیسا کہ لازم نہیں کہ ہر کامیاب ایتھلیٹ تعلیمی میدان میں کامیاب رہا ہو۔ کامیابی کا معیار تبدیل ہوتا رہتا ہے مگر اسکا دارومدار آپکی زندگی کے حالات و واقعات پر ہوتاہے۔کامیابی کیلیے سب سے بہترین کلیہ ہے کہ آپ اپنے مقصد کو پانےکیلیے ہر حدسے گزر جائیں۔ آکر آپ زندگی کامقصد حاصل کرنے کیلیے اسی طرح مسلسل کوشش کرتے رہے اور اس خاطر کسی کو نقصان نہ پہنچایا تو آپ ایک کامیاب انسان ہیں۔ جیسا کہ گریٹ جون ووڈن نے کہا تھا” کامیابی اس ذہنی اطمینان کانام ہے، کہ جس حد تک کوشش اور محنت آپ کرسکتے تھے وہ آپ نے دکھائی” اور یوں موضوع کا تمام مدعا انتہائی خوبصورتی سے بیان ہوتاہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s