یہ سب کیا ہورہا ہے؟

M_Id_393555_Burnt_Alive

آخر کو یہ لوگ کیا چاہتے ہیں انسانیت کے چہرے پراور کتنی کالکھ ملنا چاہتےہیں درندگی کی

اورکتنی داستانیں رقم ہوناباقی ہیں کیونکہ ظلم اوربربریت کی انتہا کی جاچکی ہے اٹھائیس

اپریل کو جب ایک دل دہلادینے والا واقع پیش آیا تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔ کراچی کے

علاقے مومن آباد تھانے کی حدود بسم اللہ کالونی میں ایک اورحوا کی بیٹی غیرت کی نظر کر

دی گئی۔ انیس سالہ حیات نے اپنی سترہ سالہ بہن سمیرا کو چھری کے پانچ وار کرکے گھرکی

چوکھٹ پر تڑپنے کیلئے چھوڑ دیا اور خود موبائیل سے کھیلنے لگا اس کے چہرے پرکوئی

پشیمانی نہ تھی اہل محلہ کھڑے تماشہ دیکھتےرہے اور ویڈیوز بنانےمیں مصروف دکھائی

دئیے۔ سمیرا اس چوکھٹ پردرد سے کراہتی رہی اور اجل کولبیک کہ گئی۔

ایبٹ آباد کے علاقے ڈونگاکلی میں آج ایک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آیا۔ جب مقامی گاؤں

کی ایک لڑکی عنبرین کی جلی ہوئی لاش ایک گاڑی میں پائی گئی۔ وہ نویں جماعت کی

طالبہ تھی اوراس کاتعلق ایک غریب خاندان سےتھا۔ ابھی یہ معمہ حل نہیں ہوا کہ آخر کیوں

اور کس نے یہ الم ڈھایا ہے مگر اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ان درندوں کا تعلق بھی

اسی علاقے سے ہے۔ سفاکیت اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار اور

ٹھیکےدار ابھی تک خاموش ہیں اور ہمارا میڈیا اپنی ریٹنگ کو بہتر کرنے میں مگن ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s