میرا لال لوٹا دو

 

1

ایک عورت بکھرے ہوئے اور پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوث انتہائی دردناک حالت میں، راہ

چلتے ہوئے لوگوں سے کراہتے ہوئے فریاد کر رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ

کسی پاگل کی طرح لوگوں پر جپھٹ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ کمزوری کی وجہ سے کانپ رہے

تھے۔  مگر کسی کو بھی اس کی حالت پر رحم نہ آیا سب اسے صرف ایک تماشا سمجھ رہے

تھے۔

کون جانتا تھا کہ اس بیچاری پر کیا قیامت گزری ہے  اور کیسے کیسے غم کے پہاڑوں تلے

اس کا جسم دبا ہوا ہے۔ بھوک اور افلاس سے مرجانے والے  بچے کی دل سوز چیخیں اس کے

کانوں میں گونج رہیں تھیں۔ وہ ہولناک مناظر بار بار اس کی انکھوں کے سامنے آرہے تھے

جب اس کا اکلوتا بچہ بھوک سے تڑپ رہا تھا اور اس حالت زار میں زندگی کی آخری سانسیں

لے رہا تھا۔ یہ بے بس تھی اور دوسرا کوئی بھی وہاں موجود نہ تھا کیونکہ اس کا شوہر آج

سے ٹھیک دوسال پہلے ایک خودکش بم دھماکے میں ابدی نیند سوچکا تھا۔ اور وہ زندگی

کےنشیب و فراز سے تنےتنہا دوسال  سے لڑرہی تھی۔ مگر اپنی اولاد کا غم اس سے برداشت نہ

ہوسکا اس طرح وہ ہواس گنوابیٹھی اور آج ہر ایک سے فریاد کرتی ہے کہ اسے اس کا

بچہ وآپس لوٹا دو

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s